Women Rights
آج سے چودہ سو برس قبل انسان جاہلیت کے اندھیروں میں ڈوبا تھا۔اس وقت بہت سی اور برائیوں کی طرح جنسی عدم مساوات عروج پر تھی۔ بچیوں کی پیدائش پر انھیں زندہ دفنا دیا جاتا تھا،عورت کو محض ایک حقیر سی شے سمجھا جا رہا تھا۔ایسے میں اس کائنات کو تخلیق کرنے والے خدا باری تعالیٰ نے اپنے پیارے محبوب حضور ﷺ کے ذریعے انسانوں کی تربیت کے لئے ایک نظام کا نزول فرمایا جسے دنیا اسلام کے نام سے جانتی ہے اس نظام میں عورت کو بحثیت ماں،بہن،بیٹی اور بیوی کے روپ میں وہ مقام دیا گیا جس کی مثال نہ ہی اس سے پہلے ملتی ہے اور نہ ہی اس کے بعد۔ بحثیت ماں عورت کے پاؤں تلے جنت جیسی مقدس چیز کو رکھ کر جنسی عدم مساوات کے مسئلے کو ہمیشہ کے لئے ختم کر دیا۔نہ صرف اس مسئلہ کا حل بتا دیا گیا بلکہ حضور ﷺ نے اس کا عملی نمونہ پیش کر کے رہتی دنیا تک کے لوگوں کے لئے مثال قائم کر دی
دین اسلام کے نزول کے چار سے پانچ سو سال بعد جب موجودہ یورپ نے شعور و آگاہی کی دنیا میں قدم رکھا تو انہوں نے اپنے معاشرے میں عورت سے روا رکھے جانے والے ناروا سلوک کے خاتمے کے لئے کچھ اصول بنائے لیکن چونکہ انسان کے بنائے ہوئے اصول کبھی مکمل اور جامع نہیں ہو سکتے لہذٰا وقت کے ساتھ ان اصولوں میں ترامیم کی جاتی رہیں اور یہ سلسلہ اکیسویں صدی تک آن پہنچا۔ایسے میں اپنی نااہلی کو چھپانے کے لئے اور کوئی واضح نظام نہ ہونے کی وجہ سے اس طبقے نے اللہ کے قانون کو چیلینج کرنے کے لئے اور اپنے بنائے ہوئے قوانین کی بالادستی کے لئے حقوق نسواں کے نام سے ایک منظم پروپیگنڈے کا آغاز کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے اس پروپیگنڈے کو دنیا بھر میں پھیلا دیا گیا اور یوں آج یعنی ہر سال آٹھ مارچ کو دنیا بھر میں خواتین کے عالمی دن کے رؤپ میں خواتین کو جلسے جلوس اور میرا جسم میری مرضی جیسے فحش نعارے لگانے کی حد تک پہنچا دیا گیا اور کہا گیا کہ خواتین بہت بولڈ ہو گئی ہیں۔ ان تحریکوں کو فیمینزم کا نام دیا گیا۔
اگر یہ ساری تحریکیں محض پروپیگنڈہ نہ ہوں تو حقوق نسواں کی علمبردار دنیا کی اکلوتی سپر پاور کا صدر ایک ایسا شخص نہ ہوتا جس پر خواتین کو جنسی ہراساں کرنے کے کئی مقدمات زیر سماعت ہوں، حالیہ صدارتی الیکشن کی دوڑ میں شامل ہلری کلنٹن کو محض عورت ہونے کی بنیاد پر تنقید کا نشانہ نہ بنایا جاتا۔اور ہاں یہ سچ کہ ان معاشروں میں خواتین عدم مساوات کا شکار ہیں جس کی سب سے بڑی مثال امریکہ کا آج تک کسی خاتون سربراہ کا نہ ہونا ہے۔ان معاشروں میں آج تک کالے اور گورے کا فرق روا رکھا جا رہا ہے، آج بھی رنگ نسل کی بنیاد پر لوگوں کو قتل کیا جا رہا ہے۔ ایسے میں ان معاشروں میں عدم مساوات کے چرچے ہونا ایک فطری عمل ہے لیکن اس چیز کو بنیاد بنا کر اسلام کو ہٹ کرنا ذہنی پستی کی علامت ہے۔ کیونکہ دین اسلام آج سے چودہ سو سال پہلے گورے اور کالے کی تمیز ختم کر چکا ہے۔ عورتوں کے حقوق جن کا واویلا یورپ میں آج ہے وہ چودہ سو سال پہلے طے کیے جا چکے ہیں۔
باقی رہی برابری کے حقوق کی بات تو کائنات بنانے والے خدا نے ہر جنس و شے کی اپنی اپنی خصوصیات اور ذمہ داریاں طے کی ہیں تاکہ نظام کائنات میں توازن برقرار رہے یہ کبھی ممکن نہیں کہ جو سورج روشنی دیتا ہے اسی سورج میں سے بارش بھی برسنے لگے کیونکہ سورج کی خصوصیت روشنی دینا ہے نہ کہ بارش برسانا ہے بس اسی طرح دین اسلام نے بھی عورتوں کی فطرت کو محلوظ خاطر رکھتے ہوئے اسے خاص ذمہ داریاں دی ہیں اور ویسے بھی بنانے والے کی ہدایات کبھی غلط نہیں ہو سکتیں۔ یوں دین اسلام برابری کے حقوق کی تو بات کرتا ہے لیکن ایک جیسے حقوق کی نہیں۔
یہ سچ ہے کہ حقوق نسواں کے نام پر اس فحش پروپیگنڈے کی ایک بڑی وجہ مغرب کا اسلام فوبیا ہے وہیں ہم مسلمان بھی اس جرم میں برابری کے شریک ہیں۔ کائنات کی سب سے مقدس ہستی کی پہلی شادی ایک عورت کی طرف سے دیے گئے پیغام کے نتیجے میں ہوتی ہے جس کا مطلب یہ ہے عورت کے پاس یہ حق ہے کہ اپنے لیے اپنی پسند کا دولہا چن سکے لیکن آج ہمارے معاشرے میں ایسا کرنے پر عورت پر نہ جانے کون کون سے بہتان لگا دیے جاتے ہیں۔ حضرت فاطمہ کا حضرت علی رضی اللہ سے رشتہ طے کرنے سے پہلے حضرت فاطمہ سے رائے لینا امت کے لئے پیغام تھا کہ بیٹیوں کا رشتہ دینے سے پہلے ان کی رائے لینا لازم ہے لیکن آج ہمارے معاشرے میں ایسا کرنا توہین سمجھا جاتا ہے۔ جو حضورؐ کی تعلیمات کے منافی ہے۔ یہ اسلام کے دیے حقوق تھے جن کے نتیجے میں ہمیں آج سے چودہ سو سال پہلے عورت کہیں تاجر کے روپ میں نظر آتی ہے تو کہیں معلم کے روپ میں، لیکن ہم وہ پیغام دنیا تک پہنچا ہی نہ پائے۔ آئیے ہم اپنی اصلاح کریں عورت کے سارے حقوق جائیداد سے لیکر حق مہر تک ادا کریں دین اسلام کے نظام کو نمونے کے طور پیش کریں۔عورتوں کی عزتیں اچھالنے کے بجائے انھیں صحیح راستے کی تبلیغ کریں ویسے بھی انسانی فطرت ہے کہ جس کام سے جبراً روکا جائے اسے وہی کام کرتے ہوئے تسکین ہوتی ہے اس لئے جبر کے بجائے اخلاق سے صحیح راستے کی تلقین کی جائے۔
اسی تحریر میں موجود کمی کوتاہی کی نشاندہی پر اور اس لنک کو آگے شیر کرنے پر آپ کا شکر گزار ہوں گا

Boht khoab
ReplyDelete