Corona Virus
کرونا وائرس ایک ایسی وبا کا نام ہے جسکی تعریف اگر سادہ الفاظ میں کی جائے تو اسے نزلہ و زکام کی اپ گریڈیڈ شکل کہا جا سکتا ہے۔تقریباً ایک صدی قبل اٹلی کے شہر کرونا میں جنم لینے والا کرونا وائرس
آج دنیا کو ایک کھلی جیل میں تبدیل کر چکا ہے۔ دنیا بھر میں لاکھوں لوگ اس وبا کا شکار ہو چکے ہیں،ہزاروں لوگ اس وائرس کی وجہ سے لقمہ اجل بن چکے ہیں، سو سے زاہد ممالک میں اس وبا نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں لیکن مجال ہے کہ دنیا کی اکیسویں صدی کا ترقی یافتہ انسان اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال سکے ؟؟
ماہرین اس وبا کے پھیلنے کی مختلف وجوہات بتا رہے ہیں۔ کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ چمگادڑ یا سانپ کھانے کی وجہ سے یہ وائرس انسانوں میں منتقل ہوا ہے، اور کچھ ماہرین کا خیال ہے یہ وائرس کسی تجربہ گا سے لیک ہو کے انسانوں تک پہنچا ہے۔بہرحال کچھ دنوں سے ایک خبر گردش کر رہی ہے کہ یہ وائرس دراصل دنیا کی موجودہ سپرپاور کی اپنی سپرمیسی کو برقرار رکھنے کی ایک چال ہے اور اپنے لیے خطرہ سمجا جانے والی ایک ابھرتی طاقت کے لئے ایک خفیہ پیغام ہے۔
اس مفروضے کو ثابت کرنے یا حقیقت ماننے کے لئے شاید ابھی تک کوئی مظبوط دلیل تو نہیں ہے لیکن ماضی قریب میں کئی ایسے واقعات ہوئے ہیں جو اس مفروضے کو بہرحال سچ ہونے کی ہلکی ہلکی تصدیق کر رہے ہیں۔جنگ عظیم دوم میں واحد اکلوتی نیوکلیئر طاقت ہونے اور اس کے استعمال کے نتائج کا اندازہ ہونے کے باوجود نیوکلیئر ہتھیاروں کا استعمال کرکے کروڑوں لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار دینا ااس بات کا پیغام دیتا ہے کہ یہ سپرپاور دنیا پر اپنی بالادستی قائم رکھنے کے لئے کسی حد تک بھی جاسکتی ہے چاہیے اس کے نتائج انسانوں کے لئے کتنے ہی بھیانک کیوں نہ ہوں۔ افریقہ میں پھیلنے والا وائرس ہو یا جاپان میں آنے والا زلزلہ ان سب آفات کو بھی کئی ماہرین کسی انسانی شرارت کا شاخسانہ سمجھتے ہیں۔اسی گلوبل پاور کا الیسکا کی ریاست میں کچھ دہائیاں قبل شروع کیا جانے والے ہارپ ٹیکنالوجی نامی پروگرام آج موسمی تبدیلیوں کی بنیادی وجہ سمجھا جا رہا ہے لیکن امریکہ اس طرح کے ہر مفروضے کو محض پروپیگنڈہ قرار دے کر اپنے آپ کو بری و ذمہ قرار دے رہا ہے ۔
کچھ لوگ ان دلیلوں کو محض اس بنیاد پر رد کر ڈالیں گے کہ یہ سب انسان کی بساط میں قدرت نے رکھا ہی نہیں ہے۔ ان سب کے لئے اللہ تعالی کا قرآن کریم میں واضح پیغام ہے کہ اگر انسان غور و فکر کریے تو کائنات میں موجود چیزوں کو تسخیر کر سکتا ہے۔بہرحال کرونا وائرس کی وجہ جو بھی لیکن یہ وبا کچھ واضح پیغام دے رہی ہے اور شاید یہ قدرت کا آخری الٹی میٹم بھی ہو۔
نمبر ایک اگر اکیسویں صدی کی گلوبل طاقتیں اپنی بالادستی کے لئے اسی طرح سے انسان کش ہتھیار اور چالیں چلتی رہیں تو وہ وقت دور نہیں جب انسان اس دنیا میں موجود نایاب سپشیز کی فہرست میں ٹاپ پر ہو گا۔
نمبر دو اگر ایسی گنونی چالیں حقیقت میں سچ ثابت ہو گئیں تو یہ حقیقتیں عالمی طاقتوں کے درمیان عالمی جنگ کی وجہ بن سکتی ہیں جسکے بعد شاید اس دنیا میں محض حرص و لالچ غرورِ و گھمنڈ زندہ رہے گا لیکن انسانوں کا خاتمہ ہو جائے گا۔
نمبر تین اس وبا نے ایک حقیقت کو ثابت کر دیا ہے کہ اس دنیا میں صرف ایک سپر پاور خدا تعالیٰ کی ذات ہے۔کیونکہ محض دو سے تین فیصد شرح اموات کی وجہ بننے والے وائرس کے سامنے ترقی یافتہ دنیا ہتھیار ڈال چکی ہے۔ اور انسان کی فلاح اسی رب باری تعالی کے بتائے اصولوں میں ہے۔ اللہ تعالی اس وبا کے خاتمے کے اسباب پیدا فرمائیں،اس کا شکار مریضوں کو صحت و تندرستی سے نوازے۔امین
غلطی کوتاہی کی نشاندہی اور آگے لنک شئیر کرنے پر آپ کا شکر گزار ہوں گا۔
تحریر : ثاقب کیانی
۔

Ameen
ReplyDeleteBhtreen
ReplyDeleteبہت اچھی تحریر
ReplyDeleteSb ahbab k shureya
ReplyDeleteGood a6y points uthy han
ReplyDeleteThnx
DeleteMa sha ALLAH Very nice
ReplyDeleteThnx
DeleteV.nice
ReplyDeleteMarbani
ReplyDeleteExcellent effort
ReplyDeleteThnx
DeleteMazaay ki tahreer lakhee ha kinii sab
ReplyDeleteThnx sir
ReplyDeleteبہت خوب اک اچھا تجزیہ 👍
ReplyDeleteبہت خوب جناب
ReplyDeleteThnx jnb
Delete